Posts

Urdu-Stories365

Image
   فقیرنی روزی نے جب تک ہوش نہیں سنبھالا تھا، اسے جمعرات کے دن چڑھاوے کے بتاشوں کا صبح سے انتظار رہتا تھا۔ پیر صاحب کے مزار پر جو لال پیلے گز گز بھر کے ٹکڑے، جو ان کے عقیدت مند بطور چادر چڑھا جاتے تھے ، ان کا گھونگھٹ لگا کے وہ اپنے خیال میں بالکل دلہن بن جاتی تھی۔ پھر ایک دن ایکا ایک اس کا ذہن جاگ اٹھا اور وہ بغاوت پر آمادہ ہو گئی۔ محلے کی ایک ہم عمر لڑکی روزی کی بہت پیاری سہیلی تھی۔ روزی کے گھر اکثر گھروں سے چنے اور دسویں بیسویں کا زردہ پلا کو آ جاتا تھا، جسے کھاتے وقت وہ اپنی سہیلی کو ضرور یاد رکھتی تھی۔ ایک دن جب شام ہونے کو آئی اور وہ سہیلی گلی کوچے میں ملی ، نہ تالاب کے کنارے نظر آئی تو روزی نے ماں کی نظر بچا کر ایک رکابی میں تھوڑا سازردہ نکالا اور کاغذ سے ڈھک کر اس کے گھر پہنچ گئی۔ وہ بیچاری صبح سے بخار میں پڑی تھی۔ روزی نے اس کے قریب جا کر رکابی سے کاغذ ہٹایا اور بڑے پیار سے کہا۔ ”دیکھ ! میں دو پہر سے تیرے لئے  چاول رکھے ، تجھے ڈھونڈ رہی تھی۔“ اسی وقت اس لڑکی کی ماں باورچی خانے سے نکل کر آئی اور غصے سے پوچھا۔ روزی ! کیا ہے تیرے ہاتھ میں ..؟ کیا کھلا رہی ہے لائبہ کو...